زلزلہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - بھونچال، زمین کی لرزش۔ "تحریک کیا تھی ایک زلزلہ تھا جس نے ہندوستان کی زمین کو لرزا دیا"      ( ١٩٨٤ء، مقاصدو مسائل پاکستان، ١٠٤ ) ٢ - ایسا بطیل و شجیع و کسی مقام کو تہہ و بالا کر دے۔ "اگر تم کو بھی دربدر خاک بسر نہ کیا تو نام اپنا زلزلہ قاف، ثانی سیلمانی نہ پایا ہو گا"      ( ١٨٩٦ء، طلسم ہو شربا، ٨٨٤:٧ )

اشتقاق

عربی زبان میں رباعی مجرد کے باب کا مصدر ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اصل معنی اور اصل حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٣٩ء کو "کلیات سراج" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بھونچال، زمین کی لرزش۔ "تحریک کیا تھی ایک زلزلہ تھا جس نے ہندوستان کی زمین کو لرزا دیا"      ( ١٩٨٤ء، مقاصدو مسائل پاکستان، ١٠٤ ) ٢ - ایسا بطیل و شجیع و کسی مقام کو تہہ و بالا کر دے۔ "اگر تم کو بھی دربدر خاک بسر نہ کیا تو نام اپنا زلزلہ قاف، ثانی سیلمانی نہ پایا ہو گا"      ( ١٨٩٦ء، طلسم ہو شربا، ٨٨٤:٧ )

اصل لفظ: زلزل
جنس: مذکر