زمام
معنی
١ - گھوڑے کی باگ، عناں، لگام۔ "اس زمانے میں زمام قیادت مولانا محمد علی جوہر وغیرہ جیسے قائدین کے ہاتھوں میں تھی۔" ( ١٩٨٦ء، سندھ کا مقدمہ، ٢٣ ) ٢ - اونٹ کی مہار، نکیل۔ "آپ ناقہ کی زمام کھینچے ہوئے تھے۔" ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ١٨٥:٢ ) ٣ - جوتی کا تسمہ۔ تھے ہر نعل کو دو شراک و زمام ہے دکھنی زبان میں دوال ان کا نام ( ١٧٧١ء، ہشت بہشت، ٨١:٥ )
اشتقاق
اصلاً عربی زبان کا لفظ ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٣٩ء کو "طوطی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - گھوڑے کی باگ، عناں، لگام۔ "اس زمانے میں زمام قیادت مولانا محمد علی جوہر وغیرہ جیسے قائدین کے ہاتھوں میں تھی۔" ( ١٩٨٦ء، سندھ کا مقدمہ، ٢٣ ) ٢ - اونٹ کی مہار، نکیل۔ "آپ ناقہ کی زمام کھینچے ہوئے تھے۔" ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ١٨٥:٢ )