زمزم

قسم کلام: اسم علم

معنی

١ - مکہ معظمہ میں ایک کنواں جو کعبہ کے جنوب مشرق میں واقع ہے حاجی اور عمرہ کرنے والے اس کا پانی تبرکاً پیتے ہیں، چاہ زمزم۔  یہ فیض کوثر و تسنیم و زمزم لہو پیتی ہے کیوں اولاد آدم      ( ١٩٤٩ء، نبض دوراں، ٢٢٤ ) ٢ - چاہ زمزم کا پانی، آب زم زم۔  یہ تشنہ کام ہے عرصے سے دور افتادہ دلانا یاد یہ زمزم پلانے والوں کو      ( ١٩٨٥ء، رخت سفر، ٢٧ )

اشتقاق

اصلاً عربی زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مذکر