زمہریر

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - سخت جاڑا، شدید سردی، سردی کا موسم۔  کچھ تو جاڑے میں چاہیے آخر تاندے باد زمہریر، آزار      ( ١٨٦٩ء، غالب، دیوان، ١٢٦ ) ٢ - نہایت سرد کر دینے والا طبقۂ ارض۔ "بیڈ روم ہیٹروں کی غضب ناک آنکھیں جھپک گئیں تمام کمرہ گویا طبقۂ زمہریر بن گیا۔"      ( ١٩٨٦ء، علامات قیامت، مولوی نور محمد، ٣٢ ) ٣ - روایۃ جہنم کا وہ طبقہ جہاں شدید سردی ہو گی اور اس سردی کے ذریعے گنہ گاروں، کافروں کو عذاب دیا جائے گا۔"  امین اتشے ان میں کم ہے پر آتش عشق جنات کا زمہریر دوزخ ہے بجا      ( ١٨٣٩ء، مکاشفات الاسرار، ٦٣ )

اشتقاق

اصلاً عربی زبان کا لفظ ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٤٩ء کو "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - نہایت سرد کر دینے والا طبقۂ ارض۔ "بیڈ روم ہیٹروں کی غضب ناک آنکھیں جھپک گئیں تمام کمرہ گویا طبقۂ زمہریر بن گیا۔"      ( ١٩٨٦ء، علامات قیامت، مولوی نور محمد، ٣٢ ) ٣ - روایۃ جہنم کا وہ طبقہ جہاں شدید سردی ہو گی اور اس سردی کے ذریعے گنہ گاروں، کافروں کو عذاب دیا جائے گا۔"  امین اتشے ان میں کم ہے پر آتش عشق جنات کا زمہریر دوزخ ہے بجا      ( ١٨٣٩ء، مکاشفات الاسرار، ٦٣ )

جنس: مذکر