زنا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - کسی عورت سے غیر شرعی یا غیر قانونی مباشرت۔ "بموجب قرآن کریم فقط چار جرم ایسے ہیں جو حدود کے درجہ میں آتے ہیں وہ جرم ہیں زنا، چوری، رہزنی اور کسی پر بدچلنی کا بہتان لگانا"      ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١٤١ )

اشتقاق

اصلاً عربی زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٤٦ء کو "قصہ مہر افروز و دلبر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کسی عورت سے غیر شرعی یا غیر قانونی مباشرت۔ "بموجب قرآن کریم فقط چار جرم ایسے ہیں جو حدود کے درجہ میں آتے ہیں وہ جرم ہیں زنا، چوری، رہزنی اور کسی پر بدچلنی کا بہتان لگانا"      ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١٤١ )

اصل لفظ: زِنی
جنس: مؤنث