زندیق

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - بے دین، ملحد، کافر۔ "کیا تم نے کچھ زندیقوں کو دیکھا ہے ہم ان کا پیچھا کر رہے ہیں۔"      ( ١٩٨٣ء، دشت سوس، ٣٧ ) ٢ - دو خداؤں یعنی خدائے خیر (یزداں) اور خدائے شر (اہرمن) کا قائل، زردشتی عقیدے کا پیرو۔ "ایرانی 'زندیقوں' کے ظہور نے مذہبی حلقوں پر تشویش کی لہر دوڑا دی۔"      ( ١٩٦٧ء، ادو دائرہ معارف اسلامیہ، ٦٤٠:٣ )

اشتقاق

اصلاً عربی زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨١٠ء کو "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بے دین، ملحد، کافر۔ "کیا تم نے کچھ زندیقوں کو دیکھا ہے ہم ان کا پیچھا کر رہے ہیں۔"      ( ١٩٨٣ء، دشت سوس، ٣٧ ) ٢ - دو خداؤں یعنی خدائے خیر (یزداں) اور خدائے شر (اہرمن) کا قائل، زردشتی عقیدے کا پیرو۔ "ایرانی 'زندیقوں' کے ظہور نے مذہبی حلقوں پر تشویش کی لہر دوڑا دی۔"      ( ١٩٦٧ء، ادو دائرہ معارف اسلامیہ، ٦٤٠:٣ )