زنہار

قسم کلام: حرف نفی ( واحد )

معنی

١ - حاشا، ہرگز (نفی کی تاکید کے لیے)  کوہ ندا کے بھیس میں دنیا ہے کام جو اس کی صدا پہ مڑ کے نہ زنہار دیکھنا      ( ١٩٨٦ء، غبار ماہ، ١٤٢ ) ٢ - نہی کے معنی میں قائم مقام جملہ انشائیہ (کسی کام سے باز رکھنے کے لیے)۔ "زنہار اس رسید بہی سے کام نہ لو۔"      ( ١٩٤٣ء، حیات شبلی، ٥٧٢ ) ٣ - پناہ، اماں  نوا کی نکہت رنگیں سخن کے شوخ شرار یہ ایک جوہر دل کی شعاع بے زنہار      ( ١٩٥٨ء، تار پیراہن، ١٥٥ )

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور حرف استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٥٩ء کو "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - نہی کے معنی میں قائم مقام جملہ انشائیہ (کسی کام سے باز رکھنے کے لیے)۔ "زنہار اس رسید بہی سے کام نہ لو۔"      ( ١٩٤٣ء، حیات شبلی، ٥٧٢ )