زودگوئی
معنی
١ - تیزی سے شعر کہنا، بے ساختہ کہنا (عموماً شعر کے لیے آتا ہے)۔ "ان کے ٥ ہزار اشعار صرف ٩ سالہ مشق سخن کا نتیجہ ہیں جس سے ان کی قادر الکلامی اور زود گوئی کا اندازہ ہو سکتا ہے۔" ( ١٩٨٤ء، سراج اورنگ آبادی (شخصیت اور فکر و فن)، ٢٩ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'زود' کے ساتھ فارسی مصدر 'گفتن' سے صیغہ امر 'گو' کے آخر پر 'ئی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب 'زود گوئی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٣٥ء کو "نثر ریاض خیر آبادی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - تیزی سے شعر کہنا، بے ساختہ کہنا (عموماً شعر کے لیے آتا ہے)۔ "ان کے ٥ ہزار اشعار صرف ٩ سالہ مشق سخن کا نتیجہ ہیں جس سے ان کی قادر الکلامی اور زود گوئی کا اندازہ ہو سکتا ہے۔" ( ١٩٨٤ء، سراج اورنگ آبادی (شخصیت اور فکر و فن)، ٢٩ )