زہر

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - ذائقے میں ناگوار یا ناقابل برداشت، کڑوا کسیلا یا کھاری۔ "دو تین دن تک کڑوی زہر دوا پینی پڑی۔"      ( ١٩٦٧ء، یادوں کے چراغ، ٧٣ ) ٢ - سخت ناگوار، بہت برا۔ "نکاح کا ہونا تھا کہ بھانجہ زہر معلوم ہونے لگا۔"      ( ١٩١٧ء، شام زندگی، ٧٠ ) ٣ - مہلک، قاتل۔  کہنے لگی سن کے یہ کیا قہر ہے واسطے اس کے یہ دوا زہر ہے      ( ١٩٠٧ء، اجتہاد، ١٦٥ ) ٤ - ضرر رساں، نقصان دہ، خطرناک بات جس سے ہلاکت یا نقصان کا اندیشہ ہو۔ "پست نوعیت کی افادہ پرستی . پوری قوم کے رگ و ریشے میں یہ زہر سرایت بھی کر جاتے ہیں۔"      ( ١٩٦٢ء، انداز نظر، ٣١ ) ١ - وہ چیز جس کی تھوڑی مقدار کے جسم میں پہنچنے سے ہلاکت واقع ہو جائے یا ضرر پہنچے خواہ معمولی ہو جیسے ہیرے کی کنی، سنکھیا، یا جسمانی رطوبت جو دانت یا ڈنک کے ذریعے پہنچے، کیمیائی محلول۔  ظلمت شب ہے میسر تو کبھی نور سحر زہر دیتے ہیں کبھی خاک شفا دیتے ہیں      ( ١٩٨٣ء، حصار انا، ٤٧ ) ٢ - (استعارۃً) نہایت کڑوی چیز۔ "منور ! تم اس پھوپی کی بھتیجی ہو جس نے سوکن کا زہر شہد کے گھونٹ کی طرح پیا اور اف نہ کی۔"      ( ١٩٣٦ء، ستونتی، ٣٤ ) ٣ - غصہ، غضب، خشم۔  تیری آنکھوں میں ترے زہر کے شعلے بھر دوں خاک کے سانپ کو چل خاک کو واپس کر دوں      ( ١٩٨٤ء، سمندر، ٧٧ )

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اصل معنی اور اصل حالت میں بطور اسم اور گاہے اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ذائقے میں ناگوار یا ناقابل برداشت، کڑوا کسیلا یا کھاری۔ "دو تین دن تک کڑوی زہر دوا پینی پڑی۔"      ( ١٩٦٧ء، یادوں کے چراغ، ٧٣ ) ٢ - سخت ناگوار، بہت برا۔ "نکاح کا ہونا تھا کہ بھانجہ زہر معلوم ہونے لگا۔"      ( ١٩١٧ء، شام زندگی، ٧٠ ) ٤ - ضرر رساں، نقصان دہ، خطرناک بات جس سے ہلاکت یا نقصان کا اندیشہ ہو۔ "پست نوعیت کی افادہ پرستی . پوری قوم کے رگ و ریشے میں یہ زہر سرایت بھی کر جاتے ہیں۔"      ( ١٩٦٢ء، انداز نظر، ٣١ ) ٢ - (استعارۃً) نہایت کڑوی چیز۔ "منور ! تم اس پھوپی کی بھتیجی ہو جس نے سوکن کا زہر شہد کے گھونٹ کی طرح پیا اور اف نہ کی۔"      ( ١٩٣٦ء، ستونتی، ٣٤ )