زیربند

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وہ تسمہ جو زین سے گزار کر گھوڑے کے پیٹ کے نیچے باندھا جاتا ہے، گھوڑے کا تنگ۔ "لڑتا ہوا دشمن کے منھ میں پہنچا ہی تھا کہ اس کے گھوڑے کا زیر بند ٹوٹ گیا۔"      ( ١٩٣٥ء، عبرت نامہ اندلس، ٩٠٠ ) ٢ - تسمہ، چابک، کوڑا۔ "مارے زیربندوں کے چمڑی اڑ جائے گی۔"      ( ١٩٣٣ء، فراق دہلوی، لال قلعہ کی ایک جھلک، ٣٩ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ صفت 'زیر' کے آخر پر فارسی مصدر 'بستن' سے صیغۂ امر 'بند' لگانے سے مرکب 'زیر بند' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨١٤ء کو "نو رتن" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ تسمہ جو زین سے گزار کر گھوڑے کے پیٹ کے نیچے باندھا جاتا ہے، گھوڑے کا تنگ۔ "لڑتا ہوا دشمن کے منھ میں پہنچا ہی تھا کہ اس کے گھوڑے کا زیر بند ٹوٹ گیا۔"      ( ١٩٣٥ء، عبرت نامہ اندلس، ٩٠٠ ) ٢ - تسمہ، چابک، کوڑا۔ "مارے زیربندوں کے چمڑی اڑ جائے گی۔"      ( ١٩٣٣ء، فراق دہلوی، لال قلعہ کی ایک جھلک، ٣٩ )

جنس: مذکر