زیروبم

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - [ موسیقی ]  سر کا اتار چڑھاؤ، تان، لے۔ "آواز کے زیر و بم اور آنکھوں کے اشاروں سے جادو سا کر جاتے تھے۔"      ( ١٩٢٨ء، آخری شمع، ٨٥ ) ٢ - [ مجازا ]  نشیب و فراز، اونچ نیچ۔ "تغیر و تبدل کا زیرو بم اس کی نشوونما کو راس نہیں آتا۔"      ( ١٩٨٧ء، شہاب نامہ، ٧١٣ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'زیر' کے ساتھ 'و' بطور حرف عطف لگا کر فارسی اسم 'بم' لگانے سے مرکب عطفی 'زیروبم' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٩١ء کو "طوطی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ موسیقی ]  سر کا اتار چڑھاؤ، تان، لے۔ "آواز کے زیر و بم اور آنکھوں کے اشاروں سے جادو سا کر جاتے تھے۔"      ( ١٩٢٨ء، آخری شمع، ٨٥ ) ٢ - [ مجازا ]  نشیب و فراز، اونچ نیچ۔ "تغیر و تبدل کا زیرو بم اس کی نشوونما کو راس نہیں آتا۔"      ( ١٩٨٧ء، شہاب نامہ، ٧١٣ )

جنس: مذکر