زیرپائی
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - ایک وضع کی زنانہ پھڈی جوتی، سلیپر سے مشابہ ہوتی۔ "خدا کے فضل سے سر کی پوشش سے لے کر زیر پائیوں تک ہر چیز موجود ہے۔" ( ١٩٧٥ء، اچھے مرزا، ١٠٢ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ صفت 'زیر' اور اسم 'پا' کے آخر پر 'ئی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب 'زیرپائی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٣١ء کو "دیوان ناسخ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ایک وضع کی زنانہ پھڈی جوتی، سلیپر سے مشابہ ہوتی۔ "خدا کے فضل سے سر کی پوشش سے لے کر زیر پائیوں تک ہر چیز موجود ہے۔" ( ١٩٧٥ء، اچھے مرزا، ١٠٢ )
جنس: مؤنث