زیری

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - زیر سے منسوب یا تعلق، دھیما پن، نیچے سر میں ہونا۔ "صوت کو دیگر کیفیات بھی عارض ہوتی ہیں یعنی زیری، و بمی و غنگی و پیچیدگی۔"      ( ١٩٣٩ء، آئین اکبری (ترجمہ)، ١٨٥:١ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'زیر' کے آخر پر 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے 'زیری' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٣٩ء کو "آئین اکبری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - زیر سے منسوب یا تعلق، دھیما پن، نیچے سر میں ہونا۔ "صوت کو دیگر کیفیات بھی عارض ہوتی ہیں یعنی زیری، و بمی و غنگی و پیچیدگی۔"      ( ١٩٣٩ء، آئین اکبری (ترجمہ)، ١٨٥:١ )