زینہ
معنی
١ - سیڑھی نیز سیڑھیوں کا سلسلہ، سیڑھیاں۔ "بیٹھک کا ایک ہی زینہ تھا جس پر پولیس کے سپاہیوں نے پہلے ہی قبضہ جما لیا تھا۔" ( ١٩٨٤ء، زندگی نقاب چہرے، ٧ ) ٢ - [ مجازا ] وسیلہ، اونچائی پر جانے کا ذریعہ۔ "ترقی کا یہ زینہ اس کے قدموں سے کھینچ لیا جائے تو وہ دھڑام سے منہ کے بل گرے گا۔" ( ١٨٨٨ء، قومی زبان، کراچی، اکتوبر، ٧٦ )
اشتقاق
اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧١٨ء کو "دیوان آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - سیڑھی نیز سیڑھیوں کا سلسلہ، سیڑھیاں۔ "بیٹھک کا ایک ہی زینہ تھا جس پر پولیس کے سپاہیوں نے پہلے ہی قبضہ جما لیا تھا۔" ( ١٩٨٤ء، زندگی نقاب چہرے، ٧ ) ٢ - [ مجازا ] وسیلہ، اونچائی پر جانے کا ذریعہ۔ "ترقی کا یہ زینہ اس کے قدموں سے کھینچ لیا جائے تو وہ دھڑام سے منہ کے بل گرے گا۔" ( ١٨٨٨ء، قومی زبان، کراچی، اکتوبر، ٧٦ )