سائیں

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - خدا۔ "یہ سائیں کی مہربانیاں ہیں"      ( ١٩٢٦ء، اودھ پنچ، لکھنو، ١١، ١٠:٢ ) ٢ - آقا، مالک، شوہر۔  جیوے سائیں کیا سکھ پایا مٹی گارا اور اینٹیں      ( ١٩٨١ء، ملامتوں کے درمیان، ٧٩ ) ٣ - درویش، فقیر۔  سائیں نہ ہم، نہ ہیں ہم درویش پھیری والے آئے ہیں ان کے خاطر جھولی گلے میں ڈالے      ( ١٩٣٢ء، شعاع میر، ناراین پرشاد و رما، ١٦٤ ) ٤ - گدا، بھکاری۔ "آگے چلو سائیں یہاں برکت ہے"      ( ١٩٧٥ء، لغت کبیر،١، ٤٩١:٢ ) ٥ - وڈیرہ۔ جاگیردار۔ بڑا۔ بزرگ۔ صاحب حیثیت۔ "سائیں یہ سامنے شہر زرور ہے جہاں راجہ مل حکومت کرتا ہے"      ( ١٩٨٨ء، صیحفہ: لاہور، مارچ، ٣٦ )

اشتقاق

اصلاً سندھی زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں سندھی زبان سے داخل ہوا۔ اصل معنی اور اصل حالت میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٦٥ء کو "جواہر اسرار اللہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خدا۔ "یہ سائیں کی مہربانیاں ہیں"      ( ١٩٢٦ء، اودھ پنچ، لکھنو، ١١، ١٠:٢ ) ٤ - گدا، بھکاری۔ "آگے چلو سائیں یہاں برکت ہے"      ( ١٩٧٥ء، لغت کبیر،١، ٤٩١:٢ ) ٥ - وڈیرہ۔ جاگیردار۔ بڑا۔ بزرگ۔ صاحب حیثیت۔ "سائیں یہ سامنے شہر زرور ہے جہاں راجہ مل حکومت کرتا ہے"      ( ١٩٨٨ء، صیحفہ: لاہور، مارچ، ٣٦ )

جنس: مذکر