سابقہ
معنی
١ - سابق کی تانیث۔ "اور عمل سابقہ کو بھی عمل میں لاوے۔" ( ١٨٤٥ء، خلاصۃ الاعمال، ١٧٨ ) ٢ - واسطہ، تعلق، ملاقات۔ "میں کیا بتاؤں اس دوران مجھے کیسی کیسی اندھی روحوں اور گنجے فرشتوں سے سابقہ پڑا۔" ( ١٩٨٧ء، اک محشرِ خیال، ٩٥ ) ٣ - وہ حرف یا کلمہ جو دوسرے الفاظ کے شروع میں داخل ہو کر ان کے معنی میں کوئی اضافہ کرے جیسے "امر" میں ا، بے ضرورت میں بے، گل رو میں گل۔ "سابقہ وہ لفظ جو بعض لفظوں کے پیش تر آ کر ایک مرکب لفظ بناتا ہے، مثلاً گل چیں، گل فروش۔" ( ١٩٦١ء، فرہنگ اثر، ٤٠٥ ) ٤ - نام سے پہلے اضافہ کیا جانے والا کلمہ (تعظیم یا تحقیر کے لیے)۔ "کوئی شخص دوسرے کو بغیر بھائی کا سابقہ . لگائے مخاطب نہیں کرتا تھا۔" ( ١٩٦٢ء، ساقی، کراچی، جولائی، ٥٧ ) ٧ - پچھلا، اگلے زمانے کا۔ "موجودہ مالی سال تقریباً ختم ہو رہا ہے اس لیے سابقہ منظوری کو دوبارہ ضابطے کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے۔" ( ١٩٨٤ء، دفتری مراسلت، ٩٠ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم صفت 'سابق' کی تانیث 'سابقہ' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٧٨٤ء سے "دیوان درد" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - سابق کی تانیث۔ "اور عمل سابقہ کو بھی عمل میں لاوے۔" ( ١٨٤٥ء، خلاصۃ الاعمال، ١٧٨ ) ٢ - واسطہ، تعلق، ملاقات۔ "میں کیا بتاؤں اس دوران مجھے کیسی کیسی اندھی روحوں اور گنجے فرشتوں سے سابقہ پڑا۔" ( ١٩٨٧ء، اک محشرِ خیال، ٩٥ ) ٣ - وہ حرف یا کلمہ جو دوسرے الفاظ کے شروع میں داخل ہو کر ان کے معنی میں کوئی اضافہ کرے جیسے "امر" میں ا، بے ضرورت میں بے، گل رو میں گل۔ "سابقہ وہ لفظ جو بعض لفظوں کے پیش تر آ کر ایک مرکب لفظ بناتا ہے، مثلاً گل چیں، گل فروش۔" ( ١٩٦١ء، فرہنگ اثر، ٤٠٥ ) ٤ - نام سے پہلے اضافہ کیا جانے والا کلمہ (تعظیم یا تحقیر کے لیے)۔ "کوئی شخص دوسرے کو بغیر بھائی کا سابقہ . لگائے مخاطب نہیں کرتا تھا۔" ( ١٩٦٢ء، ساقی، کراچی، جولائی، ٥٧ ) ٧ - پچھلا، اگلے زمانے کا۔ "موجودہ مالی سال تقریباً ختم ہو رہا ہے اس لیے سابقہ منظوری کو دوبارہ ضابطے کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے۔" ( ١٩٨٤ء، دفتری مراسلت، ٩٠ )