ساجد
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - سر جھکانے والا (نماز میں)، زمین پر ماتھا ٹیکنے والا، سنجدہ کرنے والا۔ متصل کرتا ہے تو معبود سے روح ساجد کو در مسجود سے ( ١٩٤٤ء، تذکرہ شاعرات اردو (رابعہ پنہاں)، ٢٩٥ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٩٤ء کو بیدار کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: سجد