ساجن

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - محبوب، پیارا، محبت کرنے والا، عاشق۔  ساجن کا اصرار کہ ہم تو گیت سنیں گے گوری چپ ہے لیکن مکھ کی لالی گائے      ( ١٩٧٧ء، خوشبو، ٢٤٤ ) ٢ - شوہر، خاوند۔ "دلی کا سہاگ اجڑ چکا ہے اس کا ساجن بچھڑ چکا ہے عمر رسیدہ کمر شکستہ دولہا حجلۂعروسی سے اتار دیا گیا ہے۔"      ( ١٩٤٠ء، ہم اور وہ، ٢٩ )

اشتقاق

اصلاً سنسکرت زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں سنسکرت سے ماخوذ ہے اصل معنی اور اصل حالت میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - شوہر، خاوند۔ "دلی کا سہاگ اجڑ چکا ہے اس کا ساجن بچھڑ چکا ہے عمر رسیدہ کمر شکستہ دولہا حجلۂعروسی سے اتار دیا گیا ہے۔"      ( ١٩٤٠ء، ہم اور وہ، ٢٩ )

جنس: مذکر