ساجھا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - (کسی چیز میں دو یا دو سے زیادہ آدمیوں کی) شرکت، میل۔ "تم سب کے گناہوں میں میرا ساجھا اور تم سب کی خطاؤں میں میری شرکت ہے۔"    ( ١٩٢٤ء، انشائے بشیر،٨٨ ) ٢ - حصہ، بخرہ، بٹائی۔ "جب تک ان کا ساجھا ہماری کمائی میں ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم نہ صرف اس کو پورا کریں بلکہ اپنا فخر سمجھیں۔"    ( ١٩١٨ء، سرابِ مغرب، ٥٠ )

اشتقاق

پراکرت زبان سے ماخوذ ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٧٤٦ء سے "قصہ مہر افروز و دلبر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (کسی چیز میں دو یا دو سے زیادہ آدمیوں کی) شرکت، میل۔ "تم سب کے گناہوں میں میرا ساجھا اور تم سب کی خطاؤں میں میری شرکت ہے۔"    ( ١٩٢٤ء، انشائے بشیر،٨٨ ) ٢ - حصہ، بخرہ، بٹائی۔ "جب تک ان کا ساجھا ہماری کمائی میں ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم نہ صرف اس کو پورا کریں بلکہ اپنا فخر سمجھیں۔"    ( ١٩١٨ء، سرابِ مغرب، ٥٠ ) ٣ - [ قانون ]  کاروبار، حصہ داری، شراکت۔ "ان کا حضرت عثمان کے ساتھ تجارت میں ساجھا تھا۔"

اصل لفظ: ساجھ
جنس: مذکر