ساخت

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - بناوٹ، ترکیب، (مجازاً) ہیئت، شکل، ڈول۔ "اس کے گھر کے دروازوں کی ساخت ایسی ہے کہ ان سے گزرنے میں نہ اونٹ والوں کو دشواری پیش آتی ہے نہ نکیل تھامنے والے پریشان ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٨٧ء، افکار، کراچی، ستمبر، ٥١ ) ٢ - حقیقت، عمل، صنعت، کاریگری۔ "فولاد جب منجمند ہوتا ہے تو تکسیدی حالت کا بھی اس کی ساخت پر خاطر خواہ اثر پڑتا ہے۔"      ( ١٩٧٣ء، فولادسازی، ١٢ ) ٣ - تصنع، تکلف، غیر حقیقی پن۔ "ان سب علمی مضامین . میں باوجود بے ساختگی کے ساخت پائی جاتی ہے۔"      ( ١٩٤١ء، انشائے داغ (مقدمہ)، ٢ ) ٤ - [ ادب ]  الفاظ کی ترتیب، ترکیب غوی۔ "فارسی جملے کی ساخت کا اثر اردو جملے کی ساخت پر اس صدی میں جاری رہتا ہے۔"      ( ١٩٨٢ء، تاریخ ادب اردو، ١/٢، ٣١ )

اشتقاق

فارسی زبان میں مصدر 'ساختن' سے مشتق حاصل مصدر 'ساخت' ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٨٤ء کو "مکمل مجموعہ لیکچرز و اسپیچرز" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بناوٹ، ترکیب، (مجازاً) ہیئت، شکل، ڈول۔ "اس کے گھر کے دروازوں کی ساخت ایسی ہے کہ ان سے گزرنے میں نہ اونٹ والوں کو دشواری پیش آتی ہے نہ نکیل تھامنے والے پریشان ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٨٧ء، افکار، کراچی، ستمبر، ٥١ ) ٢ - حقیقت، عمل، صنعت، کاریگری۔ "فولاد جب منجمند ہوتا ہے تو تکسیدی حالت کا بھی اس کی ساخت پر خاطر خواہ اثر پڑتا ہے۔"      ( ١٩٧٣ء، فولادسازی، ١٢ ) ٣ - تصنع، تکلف، غیر حقیقی پن۔ "ان سب علمی مضامین . میں باوجود بے ساختگی کے ساخت پائی جاتی ہے۔"      ( ١٩٤١ء، انشائے داغ (مقدمہ)، ٢ ) ٤ - [ ادب ]  الفاظ کی ترتیب، ترکیب غوی۔ "فارسی جملے کی ساخت کا اثر اردو جملے کی ساخت پر اس صدی میں جاری رہتا ہے۔"      ( ١٩٨٢ء، تاریخ ادب اردو، ١/٢، ٣١ )

اصل لفظ: ساخْتَن
جنس: مؤنث