ساختہ

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - بنایا ہوا، تیار کیا ہوا۔  مست نہیں پر بال ہیں بکھرے، پیچ گلے میں پگڑی کے ساختہ ایسے بگڑے رہے ہو تو تم جیسے مدھ ماتے ہو      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٧١٤ ) ٢ - مصنوعی، بناوٹی، نقلی، جعلی۔ "انجیل کے یہ حصے ساختہ ہیں۔"      ( ١٩٦٤ء، آفت کا ٹکڑا، ٧٥ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'ساخت' کے ساتھ 'ہ' بطور لاحقۂ مفعولی لگانے سے بنا۔ اردو میں بطور صفت نیز متعلق فعل استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨١٠ء سے "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - مصنوعی، بناوٹی، نقلی، جعلی۔ "انجیل کے یہ حصے ساختہ ہیں۔"      ( ١٩٦٤ء، آفت کا ٹکڑا، ٧٥ )

اصل لفظ: ساخْت