سارا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - سب، جملہ، تمام، کل، سالم۔  بے وفاؤں سے ہے آباد زمانہ سارا اک فقط تو نے نباہی شب ہجراں ہم سے      ( ١٩٠٥ء، گفتار بے خود، ٢٠٨ )

اشتقاق

اصلاً پراکرت زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ اردو میں پراکرت سے ماخوذ ہے اصل معنی اور اصل حالت میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٠٣ء کو "نوسرہار" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مذکر