سارق

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - چور، چرانے والا۔ "اشترا کی عناصر کو مجھ پر حملہ کرانے کے لیے جو نقاد ملتے ہیں وہ ایسے سارق اور یتیم العقل افراد ہوتے ہیں جن پر رحم بھی آتا ہے اور غصہ بھی۔"      ( ١٩٧٠ء، برش قلم، ٢٧٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم صفت ہے۔ اردو میں بھی بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨٥٥ء سے "تعلیم الصبیان" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - چور، چرانے والا۔ "اشترا کی عناصر کو مجھ پر حملہ کرانے کے لیے جو نقاد ملتے ہیں وہ ایسے سارق اور یتیم العقل افراد ہوتے ہیں جن پر رحم بھی آتا ہے اور غصہ بھی۔"      ( ١٩٧٠ء، برش قلم، ٢٧٩ )

اصل لفظ: سرق