سارنگ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - سری راگ کا دوسرا نام جو دوپہر کے راگوں میں گنا جاتا ہے۔  سارنگ ساتھ تلنگ شہنائیوں کے سندر راگ کے روپ دکھانے لگا      ( ١٩٦١ء، ہماری موسیقی، ١٦١ ) ٢ - سارنگی، چھاتی سے لگا کر بجایا جانے والا ساز جس میں لکڑی کے خول پر چار تانت کی تانیں اور عموماً تیرہ طربیں ہوتی ہیں، تاروں پر گمانچہ پھیر کر بجایا جاتا ہے، نچکا، نچکی۔ ٣ - سارنگ رباب سے بہت چھوٹا ہوتا ہے اور مچک کی طرح بجایا جاتا ہے۔ (آئین اکبری (ترجمہ)، 222:2) ٤ - سارس کی ایک قسم۔ "کسی جگہ دریا اترنے کی وجہ سے ٹاپو نکل آیا ہے تو وہاں لوا، سارنگ، مرغابیاں . بگلے بیٹھے کر یال کر رہے ہیں۔"      ( ١٩١٨ء، بہادر شاہ کا مولابخش ہاتھی، ١١ ) ٥ - شہد کی بڑی مکھی۔ "چھجوں پر سارنگ کے متعدد چھتے لگے ہوئے تھے۔"      ( ١٩٦٤ء، آفت کا ٹکڑا، ٣١١ )

اشتقاق

اصلاً سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٥٠٣ء سے "نوسرہار(اردو ادب)" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٤ - سارس کی ایک قسم۔ "کسی جگہ دریا اترنے کی وجہ سے ٹاپو نکل آیا ہے تو وہاں لوا، سارنگ، مرغابیاں . بگلے بیٹھے کر یال کر رہے ہیں۔"      ( ١٩١٨ء، بہادر شاہ کا مولابخش ہاتھی، ١١ ) ٥ - شہد کی بڑی مکھی۔ "چھجوں پر سارنگ کے متعدد چھتے لگے ہوئے تھے۔"      ( ١٩٦٤ء، آفت کا ٹکڑا، ٣١١ )

جنس: مذکر