ساقط

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - ساکن، رکا ہوا۔ "چہرے پر ہاتھ رکھا تو سرد، نبض دیکھی تو ساقط۔"      ( ١٨٨٠ء، فسانہ آزاد، ٣٣٣:٢ ) ١ - گراہوا، رد کیا ہوا، موقوف، معزول، مسترد، زائل، ضائع، نامعتبر، ناکارہ، بیکار۔ "انھیں اس سے اس لیے انکار کرنا ضروری تھا کیونکہ قرآن مجید کی ایک معتبر روایت اس سے ساقط ہوتی ہے۔"      ( ١٩٧٠ء، برش قلم، ٣٨٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم اور گاہے اسم صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٨٨ء کو "ہدایات ہندی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ساکن، رکا ہوا۔ "چہرے پر ہاتھ رکھا تو سرد، نبض دیکھی تو ساقط۔"      ( ١٨٨٠ء، فسانہ آزاد، ٣٣٣:٢ ) ١ - گراہوا، رد کیا ہوا، موقوف، معزول، مسترد، زائل، ضائع، نامعتبر، ناکارہ، بیکار۔ "انھیں اس سے اس لیے انکار کرنا ضروری تھا کیونکہ قرآن مجید کی ایک معتبر روایت اس سے ساقط ہوتی ہے۔"      ( ١٩٧٠ء، برش قلم، ٣٨٠ )

اصل لفظ: سقط