سالم

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - کامل، پورا، ثابت، ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ، سلامت۔ "ہنڈے اور پیپے کو اٹھانے کے لیے ایک سالم مزدور درکار ہوتا تھا۔"      ( ١٩٦٧ء، اجڑا دیار، ٦٠ ) ٢ - [ عروض ]  غیرمزاحمف، جوزماف سے الگ ہو۔ "رجز ایک بحر کا نام ہے جس کی سالم شکل میں مستفعلن کی تکرار ہوتی ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ٨٦ ) ١ - سراسر، مکسر، بالعکیہ، سب تمام (اس کا تعلق سالم نمبر 1 یا نمبر 2 سے ہے)۔  دوجا دیدار کا پیالا جو پایا ادب اور شرم وہ سالم گنوایا      ( ١٧٣٧ء، طالب و موہنی، ٣٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ اردو میں صفت اور متعلق فعل استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٩١١ء سے "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کامل، پورا، ثابت، ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ، سلامت۔ "ہنڈے اور پیپے کو اٹھانے کے لیے ایک سالم مزدور درکار ہوتا تھا۔"      ( ١٩٦٧ء، اجڑا دیار، ٦٠ ) ٢ - [ عروض ]  غیرمزاحمف، جوزماف سے الگ ہو۔ "رجز ایک بحر کا نام ہے جس کی سالم شکل میں مستفعلن کی تکرار ہوتی ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ٨٦ )