سالی
معنی
١ - بیوی کی بہن۔ "مرزا غالب کی بیگم اور ان کی سالی کی درخواست کے بارے میں ایک سرکاری دستاویز بھی شائع کی جا رہی ہے۔" ( ١٩٨٧ء، حیات غالب کا ایک باب تحقیق کی روشنی میں، ٨ ) ٢ - بطور کلمہ دشنام۔ "نئے جوتے کی طرح چرر چرر کرتی ہے سالی۔" ( ١٩٤٢ء، شکست، ٧٠ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'سالا' کی تانیث 'سالی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٦٣٥ء سے "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بیوی کی بہن۔ "مرزا غالب کی بیگم اور ان کی سالی کی درخواست کے بارے میں ایک سرکاری دستاویز بھی شائع کی جا رہی ہے۔" ( ١٩٨٧ء، حیات غالب کا ایک باب تحقیق کی روشنی میں، ٨ ) ٢ - بطور کلمہ دشنام۔ "نئے جوتے کی طرح چرر چرر کرتی ہے سالی۔" ( ١٩٤٢ء، شکست، ٧٠ )