سامعہ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - سننے کی قوت، سماعت۔ "وہ شے جسے حواس خمسہ (باصرہ، سامعہ، شامہ، ذائقہ، لامسہ) کے ذریعے محسوس نہ کیا جا سکے عقلی کہلاتے ہیں۔"      ( ١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ١٢٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'سامع' کے ساتھ 'ہ' بطور لاحقۂ تانیث لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨٠٢ء سے "رمز العاشقین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سننے کی قوت، سماعت۔ "وہ شے جسے حواس خمسہ (باصرہ، سامعہ، شامہ، ذائقہ، لامسہ) کے ذریعے محسوس نہ کیا جا سکے عقلی کہلاتے ہیں۔"      ( ١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ١٢٣ )

اصل لفظ: سامِع
جنس: مذکر