سان
معنی
١ - وہ گول پتھر جس کو گھما کر اوزاروں پر باڑھ رکھتے ہیں، باڑھ رکھنے کا پتھر، سلی، منساں۔ "کیا دشمنی کی سان پر تیز کی تلواریں کند ہوگئی ہیں۔" ( ١٩٨٧ء، فکار، کراچی، دسمبر، ٥٢ ) ٢ - دھار، باڑھ۔ برچھی میں دھار ہے نہ سروہی پر سان ہے کیا پھر مجھے خوشی کہ مرا امتحان ہے ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٣٨٨ ) ٥ - سنسان کی تخفیف، سناٹا۔ "سارے شہر میں سان ہوگیا۔" ( ١٩٢٩ء، نور اللغات، ١٨٥:٣ )
اشتقاق
سنسکرت زبان سے ماخوذ ہے۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٦٦٥ء سے "پھول بن" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - وہ گول پتھر جس کو گھما کر اوزاروں پر باڑھ رکھتے ہیں، باڑھ رکھنے کا پتھر، سلی، منساں۔ "کیا دشمنی کی سان پر تیز کی تلواریں کند ہوگئی ہیں۔" ( ١٩٨٧ء، فکار، کراچی، دسمبر، ٥٢ ) ٥ - سنسان کی تخفیف، سناٹا۔ "سارے شہر میں سان ہوگیا۔" ( ١٩٢٩ء، نور اللغات، ١٨٥:٣ )