سانس

قسم کلام: اسم کیفیت ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - ہوا جو جاندار کے ناک یا منھ کی راہ سے پھیپھڑے کے اندر جاتی اور باہر آتی ہے۔  ہر سانس کھٹکتا ہی رہا سینے میں پیہم گزرا نہ تری یاد سے خالی کوئی دم بھی      ( ١٩٠٥ء، گفتار بے خود، ٢٣٢ ) ٢ - بھاپ، پھونک، معمولی حرارت۔ "چاول بھی وہ کہ ایک ایک دانہ بلور کا تراشا، دو سانسوں میں دم پہ آیا، ایک ایک دانہ دو دو انگل کا۔"      ( ١٩٥٤ء، اپنی موج میں، ٨٤ ) ٣ - [ مجازا ]  لمحہ، مختصر وقفہ (چھ سانس کے برابر)۔ "ایک سانس میں کچھ اور دوسری . میں کچھ۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٣٤:١ ) ٤ - شگاف، جہاں سے ہوا کا گزر ہو۔ "حقے کی نے میں سانس پڑ گئی ہے۔"      ( ١٩٢٩ء، نوراللغات، ١٨٩:٣ ) ٥ - روح، آتما۔ "اس بھجن میں ہے کہ روح (سانس) انسان بظاہر غیر شعوری ہے، بلائی جا سکتی ہے۔"      ( ١٩٤٥ء، تاریخ ہندی فلسفہ (ترجمہ)، ٣٧:١ )

اشتقاق

اصلاً پراکرت زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں پراکرت سے ماخوذ ہے اصل معنی اور اصل حالت میں عربی رسم الخط میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٦٥ء کو "جواہر اسراراللہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - بھاپ، پھونک، معمولی حرارت۔ "چاول بھی وہ کہ ایک ایک دانہ بلور کا تراشا، دو سانسوں میں دم پہ آیا، ایک ایک دانہ دو دو انگل کا۔"      ( ١٩٥٤ء، اپنی موج میں، ٨٤ ) ٣ - [ مجازا ]  لمحہ، مختصر وقفہ (چھ سانس کے برابر)۔ "ایک سانس میں کچھ اور دوسری . میں کچھ۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٣٤:١ ) ٤ - شگاف، جہاں سے ہوا کا گزر ہو۔ "حقے کی نے میں سانس پڑ گئی ہے۔"      ( ١٩٢٩ء، نوراللغات، ١٨٩:٣ ) ٥ - روح، آتما۔ "اس بھجن میں ہے کہ روح (سانس) انسان بظاہر غیر شعوری ہے، بلائی جا سکتی ہے۔"      ( ١٩٤٥ء، تاریخ ہندی فلسفہ (ترجمہ)، ٣٧:١ )