سانڈ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - بیل یا گھوڑا جسے نسل کی افزائش کے لیے تیار کیا جائے اور کسی کام میں نہ لایا جائے، بجار۔ "ہر سانڈ کی خوراک و رہائش کا تین تین سو ماہوار علیحدہ مقرر تھا۔"      ( ١٩٨٦ء، انصاف، ١٠٠ ) ٢ - کسی دیوی دیوتا کے نام پر آزاد چھوڑا ہوا بیل۔ "ہندوستان کی مشرک قوم بیلوں کو سانڈ بنا کر کسی دیوی دیوتا کے نام پر آزاد چھوڑ دیتی ہے۔"      ( ١٩٥٤ء، حیوانات قرآنی، ٢٧ ) ٤ - [ مجازا ]  ہٹاکٹا، موٹا تازہ مرد، فربہ، توانا، آوارہ عیاش شخص، بے فکرا، غم و فکر سے آزاد۔ "مکتب میں بچھڑے کا بیل ہوا اور مدرسے میں بیل کا سانڈ۔"      ( ١٨٨٥ء، فسانۂ مبتلا، ٢٦ )

اشتقاق

اصلاً پراکرت زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں پراکرت سے ماخوذ ہے اصل معنی اور اصل حالت میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٧٢ء کو "رسالہ سالوتر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بیل یا گھوڑا جسے نسل کی افزائش کے لیے تیار کیا جائے اور کسی کام میں نہ لایا جائے، بجار۔ "ہر سانڈ کی خوراک و رہائش کا تین تین سو ماہوار علیحدہ مقرر تھا۔"      ( ١٩٨٦ء، انصاف، ١٠٠ ) ٢ - کسی دیوی دیوتا کے نام پر آزاد چھوڑا ہوا بیل۔ "ہندوستان کی مشرک قوم بیلوں کو سانڈ بنا کر کسی دیوی دیوتا کے نام پر آزاد چھوڑ دیتی ہے۔"      ( ١٩٥٤ء، حیوانات قرآنی، ٢٧ ) ٤ - [ مجازا ]  ہٹاکٹا، موٹا تازہ مرد، فربہ، توانا، آوارہ عیاش شخص، بے فکرا، غم و فکر سے آزاد۔ "مکتب میں بچھڑے کا بیل ہوا اور مدرسے میں بیل کا سانڈ۔"      ( ١٨٨٥ء، فسانۂ مبتلا، ٢٦ )

جنس: مذکر