ساڑی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ساری، کم و بیش چھ گز لمبا اور سوا گز اور سوا گز چوڑا عورتوں کا پہناوا جس کا دو تہائی حصہ کمر پر تہبند یا لنگی کی طرح ٹانگوں کے گرد لپیٹ کر بچا ہوا ایک تہائی حصہ اوپر سے بدن پر لپیٹ کر اس کا پلو دوپٹے کی طرح کندھوں پر یا سر پر ڈال لیا جاتا ہے۔  بنارس کی وہ ریشمی ساڑیاں وہ گھونگٹ لٹکتا ہوا الاماں      ( ١٩٣٢ء، بے نظیر شاہ، کلام بے نظیر، ٣١٠ )

اشتقاق

پراکرت زبان سے ماخوذ ہے۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے تحریراً ١٦٥٧ء سے "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مؤنث