ساکت

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - خاموش، چپ چاپ، جو نہ بولے، (مجازاً) جس سے کوئی خبر نہ پہنچے۔ "سیاہ فام دو گھنٹوں سے بے تکان بول رہا تھا اور اب مجمع ساکت کھڑا تھا۔"      ( ١٩٤٧ء، افکار، کراچی، جولائی، ٥٩ ) ٢ - بے حس و حرکت۔ "شام چار بجے کے قریب وہ آ گئیں۔ ان کے آتے ہی ایسا محسوس ہوا جیسے کسی ساکت پانی میں کوئی پتھر پھینک دیا گیا ہو۔"      ( ١٩٨٤ء، موسموں کا عکس، ١٤٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت استعمال کیا جاتا ہے۔ ١٧٨٠ء کو سودا کے "کلیات" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خاموش، چپ چاپ، جو نہ بولے، (مجازاً) جس سے کوئی خبر نہ پہنچے۔ "سیاہ فام دو گھنٹوں سے بے تکان بول رہا تھا اور اب مجمع ساکت کھڑا تھا۔"      ( ١٩٤٧ء، افکار، کراچی، جولائی، ٥٩ ) ٢ - بے حس و حرکت۔ "شام چار بجے کے قریب وہ آ گئیں۔ ان کے آتے ہی ایسا محسوس ہوا جیسے کسی ساکت پانی میں کوئی پتھر پھینک دیا گیا ہو۔"      ( ١٩٨٤ء، موسموں کا عکس، ١٤٣ )

اصل لفظ: سکت