ساگ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - سبزی (سویا، میتھی، پالک اور بتھوے وغیرہ کے پتے)۔ "ایک روز کہیں سے توریئے اور کلتھے کا ملاجلا ساگ ہاتھ آیا نانی محنت مزدوری میں مصروف تھے ماں جی نے ساگ چولہے پر چڑھایا۔"      ( ١٩٦٨ء، ماں جی، ٢٣ )

اشتقاق

اصلاً پراکرت زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں پراکرت سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٦٤ء کو حسن شوقی کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سبزی (سویا، میتھی، پالک اور بتھوے وغیرہ کے پتے)۔ "ایک روز کہیں سے توریئے اور کلتھے کا ملاجلا ساگ ہاتھ آیا نانی محنت مزدوری میں مصروف تھے ماں جی نے ساگ چولہے پر چڑھایا۔"      ( ١٩٦٨ء، ماں جی، ٢٣ )

جنس: مذکر