ساگر

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - سمندر، بحر۔ "ساگر کا پانی ہمیشہ صاف اور پوتر رہتا ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، حصار، ٤٥ )

اشتقاق

اصلاً سنسکرت زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں سنسکرت سے ماخوذ ہے۔ اصل معنی اور اصل حالت میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٣٢٤ء کو "نذرِ خسرو" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سمندر، بحر۔ "ساگر کا پانی ہمیشہ صاف اور پوتر رہتا ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، حصار، ٤٥ )

جنس: مذکر