سایہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - روشنی کے سامنے کسی مجسم شے کے حائل ہو جانے کی وجہ سے پیدا ہونے والی تاریکی، پر چھائیں۔ "میری نظریں تپتے ہوئے ٹین پر پڑیں جس کی چھت نے میرے سر پر سایہ کر رکھا تھا"    ( ١٩٨٦ء، قطب نما، ١٠٤ ) ٢ - تصویر کی تیرگی یا سپاہی، عکس، شبیہہ۔ "رنگ اس کا گہرا بیگنی کر دیتا ہے اور سایہ تصویر کو بہت نے میرے سر پر سایہ کر رکھا تھا"    ( ١٩٣٦ء، شعاع مہر، ناراین پرشاد ورما، ٨٢ ) ٣ - پرتو، ہم شکل، ثانی، مثنی۔ "فارسی کی شاعری بالکل عرب کا سایہ ہے"    ( ١٩١٤ء، شبلی، مقالات؛ ٤٩:٢ ) ٤ - بھوت پریت یا جن وغیرہ کا اثر، آسیب۔ "وہ زمانہ گیا کہ لوگ بیماریوں کو سایہ آسیب سمجھتے تھے"      ( ١٩٨٥ء، روشنی، ٤٦ ) ٥ - (کسی بزرگ کی) نگرانی، سرپرستی، شفقت۔ "کٹھیوں میں اناج غلہ جو بھرا جاتا تھا وہ ختم ہی نہیں ہوتا تھا . لال شہزادے کے سائے کا عجب اثر تھا"      ( ١٩٦٩ء، افسانہ کر دیا، ١٠٩ )

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اصل معنی اور اصل حالت میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - روشنی کے سامنے کسی مجسم شے کے حائل ہو جانے کی وجہ سے پیدا ہونے والی تاریکی، پر چھائیں۔ "میری نظریں تپتے ہوئے ٹین پر پڑیں جس کی چھت نے میرے سر پر سایہ کر رکھا تھا"    ( ١٩٨٦ء، قطب نما، ١٠٤ ) ٢ - تصویر کی تیرگی یا سپاہی، عکس، شبیہہ۔ "رنگ اس کا گہرا بیگنی کر دیتا ہے اور سایہ تصویر کو بہت نے میرے سر پر سایہ کر رکھا تھا"    ( ١٩٣٦ء، شعاع مہر، ناراین پرشاد ورما، ٨٢ ) ٣ - پرتو، ہم شکل، ثانی، مثنی۔ "فارسی کی شاعری بالکل عرب کا سایہ ہے"    ( ١٩١٤ء، شبلی، مقالات؛ ٤٩:٢ ) ٤ - بھوت پریت یا جن وغیرہ کا اثر، آسیب۔ "وہ زمانہ گیا کہ لوگ بیماریوں کو سایہ آسیب سمجھتے تھے"      ( ١٩٨٥ء، روشنی، ٤٦ ) ٥ - (کسی بزرگ کی) نگرانی، سرپرستی، شفقت۔ "کٹھیوں میں اناج غلہ جو بھرا جاتا تھا وہ ختم ہی نہیں ہوتا تھا . لال شہزادے کے سائے کا عجب اثر تھا"      ( ١٩٦٩ء، افسانہ کر دیا، ١٠٩ )

جنس: مذکر