سباحت
معنی
١ - تیرنا، تیراکی، شناوری۔ "ان کی دلیل یہ ہے کہ سباحت (تیراکی) پانی کے بغیر ناممکن ہے۔" ( ١٩٧٦ء، مقالات کاظمی، ٣٧٦ ) ٢ - [ طبیعیات ] قوت اچھال یا مرکز اچھال۔ "مائع کے مرکز ثقل کو اکثر مرکز سباحت یا اچھال کر مرکز کہتے ہیں۔" ( ١٩٢١ء، سکون سیالات، ٧٨ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨٠٩ء سے "دیوان شاہ کمال" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - تیرنا، تیراکی، شناوری۔ "ان کی دلیل یہ ہے کہ سباحت (تیراکی) پانی کے بغیر ناممکن ہے۔" ( ١٩٧٦ء، مقالات کاظمی، ٣٧٦ ) ٢ - [ طبیعیات ] قوت اچھال یا مرکز اچھال۔ "مائع کے مرکز ثقل کو اکثر مرکز سباحت یا اچھال کر مرکز کہتے ہیں۔" ( ١٩٢١ء، سکون سیالات، ٧٨ )