سبز
معنی
١ - ہرا، ہرا رنگ، اخضر۔ "راجہ کو اپنا تیسرا جنم بڑا بھلا معلوم ہوا زمردیں زندگی لہلہاتی سبز کنچن دنیا پر سکون بالیدگیوں سے مالا مال" ( ١٩٨٦ء، جوالامکھ، ١٤ ) ٢ - شاداب، تروتازہ۔ غل مچ گیا دیہات میں کہرام ہو گیا اجڑے درخت سبز، غم عام ہو گیا ( ١٩٢٩ء، مطلع انوار، ١٨٢ ) ٣ - سانولا، سلونی رنگت کا محبوب، (مجازاً) محبوب۔ بحر چشم دوستی ان سبز دنیا سے نہ رکھ بیوفا سب ہیں یہ طوطا چشم کس کے یار ہیں ( ١٨٣٦ء، ریاض البحر، ١٢٦ ) ٤ - سپاہی آمیز سفید رنگ کا گھوڑا یا گھوڑی، سرستی رنگ سے مشابہ۔ "بہت سے لوگ جمع ہیں ایک سبز بچھیری . ڈھول پر ناچ رہی ہے" ( ١٩٦٢ء، آفت کا ٹکڑا، ٢١٠ ) ٦ - بار آور، ہرا بھرا، کامیاب، سرخرو۔ سرخی شفق کی گردہ ملے منہ پر ہر سحر لیکن نہ رو برو ہو ترے آفتاب سبز ( ١٨٥١ء، پروانہ (جسونت سنگھ)، دیوان، ٢٣٥ )
اشتقاق
اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ہرا، ہرا رنگ، اخضر۔ "راجہ کو اپنا تیسرا جنم بڑا بھلا معلوم ہوا زمردیں زندگی لہلہاتی سبز کنچن دنیا پر سکون بالیدگیوں سے مالا مال" ( ١٩٨٦ء، جوالامکھ، ١٤ ) ٤ - سپاہی آمیز سفید رنگ کا گھوڑا یا گھوڑی، سرستی رنگ سے مشابہ۔ "بہت سے لوگ جمع ہیں ایک سبز بچھیری . ڈھول پر ناچ رہی ہے" ( ١٩٦٢ء، آفت کا ٹکڑا، ٢١٠ )