سبق

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - کتاب کا وہ حصہ جو طالب علم ایک وقت میں پڑھے، استاد سے ایک مرتبہ میں جو شاگرد پڑھے، درس جو استاد طالب علم کو ایک دن میں دے، علم، درس، تعلیم۔  ہوا سے خشک کتابوں کے اڑ رہے ہیں ورق مگر میں بھول چکی ہوں تمام ان کے سبق      ( ١٩٧٧ء، خوشبو، ٥٧ ) ٢ - پند، نصیحت، ہدایت۔ "میری زندگی دوسری ماؤں کے واسطے سبق ہو اپنے واقعات پر ایک نظر ڈالنی مناسب سمجھتی ہوں"      ( ١٩٢٥ء، گرداب حیات، ٥٢ ) ٣ - عبرت، سزا۔  سبق بے گنہی تشنۂ تکمیل بھی ہے ایک نیا فلسفۂ جرم و سزا اور سہی      ( ١٩٦٩ء، لاحاصل، ٨٣ ) ٤ - فوقیت، سبقت، ترجیح، برتری۔  خلائق پہ دنیا میں بھیجا بحق دیا اپنے سب مرسلوں پر سبق      ( ١٨٦٥ء، لوح محفوظ، اثر، ١٧٦ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے ١٦٧٢ء کو قطب شاہ کے "دیوان" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - پند، نصیحت، ہدایت۔ "میری زندگی دوسری ماؤں کے واسطے سبق ہو اپنے واقعات پر ایک نظر ڈالنی مناسب سمجھتی ہوں"      ( ١٩٢٥ء، گرداب حیات، ٥٢ )

اصل لفظ: سبق
جنس: مذکر