سبھا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - محفل، مجلس، بزم، اسمبلی۔ "اندر مہاراج کی سبھا میں کچھ خلل سا واقع ہوا۔"    ( ١٩٨٦ء، جوالامکھ، ٥ ) ٢ - پنچایت۔ "وہ گاؤں سبھائیں گاؤں عدالتیں کہاں رہیں۔"    ( ١٩٥٤ء، شاید کہ بہار آئی، ١٢٥ ) ٣ - لوگوں کا گروہ یا جماعت جو کسی مشترکہ مقصد کے لیے قائم کی گئی ہو، سوسائٹی، انجمن۔ "جگہ جگہ سبھائیں اور انجمنیں قائم ہوئیں۔"      ( ١٩٨٨ء، نگار، کراچی، اگست، ٢٠ ) ٥ - اجلاس، کانفرنس، جلسہ۔ "ہم ایک چوکور میز کی سبھا کرنیوالے ہیں جس میں پنڈت جی مصالحت کی کتھا کہیں گے۔"      ( ١٩٢٤ء، اودھ پنچ، لکھنو، ٩، ٤:٢٧ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٧٤٦ء سے "قصہ مہر افروز و دلبر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - محفل، مجلس، بزم، اسمبلی۔ "اندر مہاراج کی سبھا میں کچھ خلل سا واقع ہوا۔"    ( ١٩٨٦ء، جوالامکھ، ٥ ) ٢ - پنچایت۔ "وہ گاؤں سبھائیں گاؤں عدالتیں کہاں رہیں۔"    ( ١٩٥٤ء، شاید کہ بہار آئی، ١٢٥ ) ٣ - لوگوں کا گروہ یا جماعت جو کسی مشترکہ مقصد کے لیے قائم کی گئی ہو، سوسائٹی، انجمن۔ "جگہ جگہ سبھائیں اور انجمنیں قائم ہوئیں۔"      ( ١٩٨٨ء، نگار، کراچی، اگست، ٢٠ ) ٥ - اجلاس، کانفرنس، جلسہ۔ "ہم ایک چوکور میز کی سبھا کرنیوالے ہیں جس میں پنڈت جی مصالحت کی کتھا کہیں گے۔"      ( ١٩٢٤ء، اودھ پنچ، لکھنو، ٩، ٤:٢٧ )

جنس: مؤنث