ستم
معنی
١ - ظلم، بے انصافی، اندھیر۔ "عیسائی فوجوں نے کونسا ستم ہم پر روا نہیں رکھا۔" ( ١٩٨٥ء، طوبٰی، ٥٨٦ ) ٢ - غضب، قیامت۔ "شوہر کے کچوکے، اس پر ستم شاہدہ کا مضحکہ۔" ( ١٩١٩ء، جوہر قدامت، ٦٤ )
اشتقاق
اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ظلم، بے انصافی، اندھیر۔ "عیسائی فوجوں نے کونسا ستم ہم پر روا نہیں رکھا۔" ( ١٩٨٥ء، طوبٰی، ٥٨٦ ) ٢ - غضب، قیامت۔ "شوہر کے کچوکے، اس پر ستم شاہدہ کا مضحکہ۔" ( ١٩١٩ء، جوہر قدامت، ٦٤ )