ستودہ
معنی
١ - جس کی تعریف کی جائے، جس کی حمد و ثناء کی جائے، سراہا ہوا؛ (مجازاً) پسندیدہ، نیک۔ "پوری دنیا کی تاریخ میں صرف ایک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مستودہ صفات ہے۔" ( ١٩٧٢ء، سیرت سرورِ عالم، ٧٢٥:١ )
اشتقاق
فارسی مصدر 'ستودن' سے مشتق صیغہ حالیہ تمام 'ستودہ' اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨٥١ء سے "عجائب القصص" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - جس کی تعریف کی جائے، جس کی حمد و ثناء کی جائے، سراہا ہوا؛ (مجازاً) پسندیدہ، نیک۔ "پوری دنیا کی تاریخ میں صرف ایک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مستودہ صفات ہے۔" ( ١٩٧٢ء، سیرت سرورِ عالم، ٧٢٥:١ )