ستھرا

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - جس میں پاکی، صفائی، نفاست یا لطافت پائی جائے، صاف، پاکیزہ، اجلا، اچھا، خوب۔ "ان کی تحریروں کا ستھرا، صاف اور نکھرا انداز. مثبت اندازفکر رکھتا تھا۔"      ( ١٩٨٨ء، جنگ، کراچی، ٢٣ستمبر، ١١ ) ١ - فقیروں کا ایک گروہ۔ "بعدہ، ستھرا فقیر ہو کر باوا رجال شاہ کا چیلہ ہوا۔"      ( ١٨٦٤ء، تحقیقات چشتی، ٨٣٨ ) ٢ - مباہ، حلال (فرہنگ آصفیہ)

اشتقاق

اصلاً سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں بطور صفت نیز اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٦٥٤ء سے "گنج شریف" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جس میں پاکی، صفائی، نفاست یا لطافت پائی جائے، صاف، پاکیزہ، اجلا، اچھا، خوب۔ "ان کی تحریروں کا ستھرا، صاف اور نکھرا انداز. مثبت اندازفکر رکھتا تھا۔"      ( ١٩٨٨ء، جنگ، کراچی، ٢٣ستمبر، ١١ ) ١ - فقیروں کا ایک گروہ۔ "بعدہ، ستھرا فقیر ہو کر باوا رجال شاہ کا چیلہ ہوا۔"      ( ١٨٦٤ء، تحقیقات چشتی، ٨٣٨ )