ستیاناس
معنی
١ - یکسر تباہ و برباد، خراب و خستہ، نام و نشان نہ رہنا (عموماً 'کا' کے ساتھ مستعمل ہے۔ ہونا، کرنا، جانا کے لیے۔) "ہوسکتا ہے کہ وہ سارے کام کا ستیاناس کر دے۔" ( ١٩٨٧ء، اور لائن کٹ گئی، ٣٢ )
اشتقاق
سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'ستیا' کے ساتھ سنسکرت ہی سے ماخوذ اسم 'ناس' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٧٨٠ء سے "کلیات سودا" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - یکسر تباہ و برباد، خراب و خستہ، نام و نشان نہ رہنا (عموماً 'کا' کے ساتھ مستعمل ہے۔ ہونا، کرنا، جانا کے لیے۔) "ہوسکتا ہے کہ وہ سارے کام کا ستیاناس کر دے۔" ( ١٩٨٧ء، اور لائن کٹ گئی، ٣٢ )