سج

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - سجاوٹ، سنگھار، انداز، وضع۔ "ماہ کی صورت، چکور کی سیرت، لیلیٰ کی سج مجنوں کی دھج۔"      ( ١٨٨٢ء، طلسم ہوشربا (انتخاب)، ٢٩:١ ) ٢ - زیب و زینت، خوب صورتی، سجاوٹ۔  ابرو سے اور روئے کتابی کی سج ہوئی مد نگاہ رخ تھا سو یہ سطر کج ہوئی      ( ١٨٧٥ء، دبیر، دفتر ماتم، ٩٦:٢ ) ٣ - زیبا۔  سب سج ہے اگر تجھے جو بھج ہے (کزا) اس بھج تے ہر ایک کام سج ہے      ( ١٧٠٠ء، من لگن، ٦٥ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'سجا' سے 'سج' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٧٠٠ سے "من لگن" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سجاوٹ، سنگھار، انداز، وضع۔ "ماہ کی صورت، چکور کی سیرت، لیلیٰ کی سج مجنوں کی دھج۔"      ( ١٨٨٢ء، طلسم ہوشربا (انتخاب)، ٢٩:١ )

اصل لفظ: سَجا
جنس: مؤنث