سجنا
معنی
١ - زیب دینا، پھبنا، موزوں ہونا۔ "اگیانی ہونا برہمنوں کو نہیں سجتا۔" ( ١٩٨٥ء، خیمے سے دور، ٥٨ ) ٢ - بننا سنورنا، آراستہ ہونا۔ میں بھی اس کی طرح ایک دن دہر میں آباد تھی سجتی تھی بنتی بھی تھی، مسرور تھی اور شاد تھی ( ١٩٢٤ء، انشائے بشیر، ١١١ ) ٣ - ترتیب اور ڈھنگ سے لگنا، موزوں ہونا، مرتب ہونا۔ "ہر چیز قرینہ سے رکھی سلسلہ سے دھری خوبصورتی سے سجی. کاغذ کا پرزہ تک نہیں۔" ( ١٩١٥ء، گردابِ حیات، ٥٠ ) ٤ - آراستہ کرنا، خوبصورت بنانا، سجانا۔ تیری دہلیز پر سجا آئے پھر تری یاد پر چڑھا آئے ( ١٩٨٤ء، نسخہ ہائے وفا، ٧٠٦ ) ٥ - زیب تن یا زیب سر کرنا، ہتھیار وغیرہ لگانا۔ گداز جسم قبا جس پہ سج کے ناز کرے دراز قد جسے سر و سہی نماز کرے ( ١٩٤١ء، نقش فریادی، ٥٨ ) ٦ - خوان، دسترخوان یا میز پر کھانے چننا۔ "تھوڑی دیر میں میز اس نے انواع و اقسام کے کھانوں سے سجا دی۔" ( ١٩٥٤ء، شاید کہ مہار آئی، ١٧٩ )
اشتقاق
اصلاً سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں بطور فعل استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٦٧٨ء سے "کلیات غواصی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - زیب دینا، پھبنا، موزوں ہونا۔ "اگیانی ہونا برہمنوں کو نہیں سجتا۔" ( ١٩٨٥ء، خیمے سے دور، ٥٨ ) ٣ - ترتیب اور ڈھنگ سے لگنا، موزوں ہونا، مرتب ہونا۔ "ہر چیز قرینہ سے رکھی سلسلہ سے دھری خوبصورتی سے سجی. کاغذ کا پرزہ تک نہیں۔" ( ١٩١٥ء، گردابِ حیات، ٥٠ ) ٦ - خوان، دسترخوان یا میز پر کھانے چننا۔ "تھوڑی دیر میں میز اس نے انواع و اقسام کے کھانوں سے سجا دی۔" ( ١٩٥٤ء، شاید کہ مہار آئی، ١٧٩ )