سجھاؤ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - خیال، تجویز۔ "ان جوشیلے کام کرنے والوں کے سامنے میں یہ سمجھاؤ رکھتا ہوں کہ اردو بولی کا جو روپ بازار، ہاٹ اور گلیوں میں چل رہا ہے اسی کو لے کر اپنی کتابیں اور لیکھ لکھیں۔"      ( ١٩٧٢ء، اوراق، اکتوبر، نومبر، ٢٩١ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ مصدر 'سجھانا' سے حاصل مصدر 'سجھاؤ' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٩٧٢ء سے "اوراق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خیال، تجویز۔ "ان جوشیلے کام کرنے والوں کے سامنے میں یہ سمجھاؤ رکھتا ہوں کہ اردو بولی کا جو روپ بازار، ہاٹ اور گلیوں میں چل رہا ہے اسی کو لے کر اپنی کتابیں اور لیکھ لکھیں۔"      ( ١٩٧٢ء، اوراق، اکتوبر، نومبر، ٢٩١ )

اصل لفظ: سُجھانا
جنس: مذکر