سجھانا

قسم کلام: فعل متعدی

معنی

١ - کوئی نامعلوم یا نئی بات بتانا یا ذہن میں لانا، سکھانا، بتانا، آگاہ کرنا، اونچ نیچ سمجھانا۔  ثابت ہوا ہے تین گنا مجھ سے تو دلیر تو نے سجھا دیا مجھے میری سمجھ کا پھیر      ( ١٩٨٤ء، قہر عشق (ترجمہ)، ٣٩٧ ) ٢ - ظاہر کرنا، دکھانا، سمجھانا، بتانا، جتلانا۔ "خود پڑھ کر سنانے اور دوسروں کی غلطیاں یا کمزوریاں سجھانے کو بارہا جی چاہا۔"      ( ١٩٨٧ء، حیات مستعار، ٢٤ ) ٣ - سجانا۔ "میرے بچے نے روتے روتے آنکھیں سجھالیں۔"      ( ١٩٣١ء، سیدہ کا لال، ٢١٩ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ فعل متعدی 'سجانا' کا ایک اصلاً 'سجھانا' بنا۔ اردو میں بطور فعل استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٧٨٤ء سے "سحر البیان" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - ظاہر کرنا، دکھانا، سمجھانا، بتانا، جتلانا۔ "خود پڑھ کر سنانے اور دوسروں کی غلطیاں یا کمزوریاں سجھانے کو بارہا جی چاہا۔"      ( ١٩٨٧ء، حیات مستعار، ٢٤ ) ٣ - سجانا۔ "میرے بچے نے روتے روتے آنکھیں سجھالیں۔"      ( ١٩٣١ء، سیدہ کا لال، ٢١٩ )