سحرالبیانی
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - پر تاثیر گفتگو، شیریں مقالی، خوش گفتاری، جادو بیانی۔ "اسے چچا کی سحرالبیانی کا بھی اندازہ ہے۔" ( ١٩٦٩ء، نذیر احمد اور اردو ناول نگاری، ١١٢ )
اشتقاق
عربی زبان سے ماخوذ مرکب 'سحرالبیان' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨٧٢ء سے "محامد خاتم النبیین" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - پر تاثیر گفتگو، شیریں مقالی، خوش گفتاری، جادو بیانی۔ "اسے چچا کی سحرالبیانی کا بھی اندازہ ہے۔" ( ١٩٦٩ء، نذیر احمد اور اردو ناول نگاری، ١١٢ )
جنس: مؤنث