سحری

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - صبح کا، صبح کے متعلق۔  جو تم ملے تو کچھ اپنا پتہ نہیں ملتا فغان نیم شبی ہے نہ گریۂ سحری      ( ١٩٤٧ء، نبض دوراں، ٢٦٨ ) ١ - وہ کھانا جو رمضان میں رات کے آخری حصے سے صبح صادق تک روزہ رکھنے کے لیے کھایا جاتا ہے۔ "یہ کئی کئی دن کا ایک روزہ ہوتا افطار اور سحری کے موقع پر آپ کچھ نہ کھاتے۔"      ( ١٩٨٥ء، روشنی، ١٢١ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'سحر' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے بنا۔ اردو میں بطور صفت اور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨٦٧ء سے "نورالہدایہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ کھانا جو رمضان میں رات کے آخری حصے سے صبح صادق تک روزہ رکھنے کے لیے کھایا جاتا ہے۔ "یہ کئی کئی دن کا ایک روزہ ہوتا افطار اور سحری کے موقع پر آپ کچھ نہ کھاتے۔"      ( ١٩٨٥ء، روشنی، ١٢١ )

اصل لفظ: سَحَر